Skip to main content

Posts

Showing posts from September, 2018

گڈ نیوز کلب کی ضرورت

یہ مارتھا کی کہانی ہے جو میں نے کسی انسپریشنل کتاب میں پڑھی تھی۔ مارتھا لکھتی ہے کہ وہ ایک پرائیویٹ دفتر میں ملازمت کرتی تھی۔ دفتر کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں جا رہے تھے۔ کئی سالوں سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔ سال میں ملنے والے دو بونس بھی مالی خسارے کی وجہ سے بند ہو چکے تھے۔ ان حالات میں کام کرنے والے کمپنی کے ملازم ہر وقت کڑھتے رہتے اور جونہی لنچ بریک میں کیفے ٹیریا آباد ہوتا بس یہی باتیں شروع ہو جاتیں۔ ہر کوئی اپنے مالی مسائل اور کمپنی کی بے حسی کا رونا روتا۔ ہر کوئی ناخوش دکھائی دیتا۔ مارتھا کہتی ہیں کہ ہم چھ لوگوں کا ایک گروپ مل کر لنچ کرنے کا عادی تھا اور ہم چھ لوگ بھی باقی ملازمین کی طرح ہر وقت جملے کڑھے رہتے مسائل کا رونا روتے رہتے۔ شکوے شکایت تنخواہوں کی کمی سے ہوتے ہوئے گھریلو حالات کی طرف مڑ جاتے تو وہاں بھی ہر کوئی شکایتوں کے انبار لگا دیتا۔ کہیں شریک حیات کی بے اعتنائی کا شکوہ ہوتا تو کوئی دوستوں‘ رشتہ داروں کی بے وفائی کے تذکرے کرتا۔ غرض لنچ ٹائم کا آدھا پونا گھنٹہ اسی قسم کی باتیں ہوتی رہتیں۔ اور یوں جب تک ہم واپس اپنے کام کے لیے ڈیسک پر بیٹھتے یہ م...

ولی عہد کی تقریر بہت اچھی تھی

بلاول نے تو قومی اسمبلی میں صرف ایک تقریر کی ، پیشہ وروں نے تو کمال کر دیاہے۔ برسات میں گداگران سخن قافلوں کی صورت نکل پڑے۔ ولی عہد کی معاملہ فہمی اور دان مندی سے لے کر اس کی خوبصورت انگریزی تک ، ایسے ایسے قصیدے لکھے گئے کہ الامان۔پیشہ وروں کے ان سارے قصائد پر مگر جناب توفیق بٹ کا یہ فقرہ بھاری رہا’’ بلاول کی تقریر اچھی تھی ، کاش اس کے ابو بھی اچھے ہوتے‘‘۔تقریر کے سحر سے احباب اگر نکل سکیں تو آئیے ذرا سندھ چلتے ہیں۔ یہ سندھ کی صوبائی اسمبلی ہے۔ اس صوبائی اسمبلی سے جمہوریت نے بہترین انتقام یوں لیا ہے کہ اراکین کے 6 ہزار سوالات کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا۔  کوئی مہذب ملک ہوتا تو حکومت شرم سے ڈوب مرتی کہ ایوان کے معزز اراکین سوالات پوچھتے رہ گئے اور حکومت نے 6 ہزار سوالات کا جواب نہیں دیا۔ یہ مگر ہم ہیں جو ہر واردات کے بعد اعلان کرتے ہیں کہ ہے کوئی ہم سا؟ آج پھر وہی حکومت ہے ، وہی وزیر اعلی اور عوام کے لیے آج پھر وہی دھوکہ ہے کہ اب راج کرے گی خلق خدا۔ خیر ہمیں اس سے کیا ؟ ہمارے لیے گداگران سخن کا یہ اعلان کافی ہے کہ ولی عہد کی تقریر بہت اچھی تھی۔ فروری 2018 ء میں اقوام متحدہ ...

کیا ریاست کو معافی نہیں مانگنی چاہئے؟

پچھلے تین دن سے ایک اخبار میرے سرہانے پڑا ہے، میں اس میں ایک بزرگ کی چھنے والی تصویر کو بار بار دیکھنے کے باوجود دیکھ نہیں پارہا،تصویر کے ساتھ خبر بھی ہے، اس خبر کی سرخیاں کئی بار پڑھ چکا ہوں مگر خبر کی تفصیل پڑھنے کا حوصلہ نہیں پا رہا، یہ ایک اسی سال سے زیادہ عمر کے بوڑھے کی تصویر ہے جو سندھ ہائی کورٹ کی ایک عدالت کے باہر وہیل چئیر پر بیٹھا ہے، اس کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر درد ہی درد ہے ، اس تصویر نے مجھے تین دنوں میں کئی بار رلایا ہے،میں اس تصویر کو سرہانے کے نیچے چھپا دیتا ہوں تو وہ پھر نھی میری آنکھوں میں سمٹ آتی ہے،یہ تصویر مجھے سونے بھی نہیں دیتی، آج سوچا کہ مقدمہ آپ کے سامنے پیش کر دوں، آپ ہی بتائیے کہ میرے اس رنج کا علاج کیا ہے جو اس بزرگ کے چہرے سے میرے دل میں اتر آیا ہے۔ یہ بوڑھا شخص جس کا نام عبدلمجید سومرو ہے، ایک نجی بنک کا آفیسر ہواکرتا تھا ،انیس سو چھیانوے میں اس بنک میں ایک بڑا فراڈ پکڑا گیا، جسے یلو کیب سکیم کا نام دیا گیا تھا، بنک کے جن افسروں کو فراڈ کے الزام میں پکڑا گیا ان میں وہ بھی شامل تھا، دوسرے افسر تو کسی نہ کسی طور بچ گئے مگر اسے مجرم گردانتے ہوئے سات...

’’راہب کیکڑا اور مصور آرٹ شارٹ‘‘

پچھلے چند برسوں سے میں تقریباً گوشہ نشین ہوں۔ سویرے سویرے ماڈل ٹائون پارک میں‘ پھر دوستوں سے فضول نوعیت کی گفتگو اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فضول قسم کی گفتگو اور نیم فحش لطیفوں کا تبادلہ بھی انسان کو نارمل اور صحت مند رکھتا ہے۔ ہمہ وقت سنجیدہ ادبی گفتگو اور فلسفیانہ موشگافیاں خاص طور پر اس عمر میں بندے کو چڑ چڑا کرنے کے علاوہ قبض بھی کر دیتی ہیں۔ سیر سے واپسی پر سبزیاں ترکاریاں اور دہی خرید کر میں گھر آتا ہوں اور پھر مجال ہے گھر سے باہر قدم بھی رکھوں۔ گوشہ نشین ہو جاتا ہوں اور گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق میں ایک ’’ہزمٹ کریب‘‘ یعنی ’’راہب کیکڑا‘‘ ہو چکا ہوں‘ اپنے گھر کی چٹان کے کونے کھدروں میں پڑا رہتا ہوں۔ لیکن کبھی ماضی کی مشہوریاں اور شہرتیں یاد آتی ہیں کہ کبھی ہم بھی خوبصورت تھے اور دل میں ایک لہر سی اٹھتی ہے اک تازہ ہوا سی چلتی ہے کہ کہاں گئے وہ دن۔ جی چاہتا ہے کہ پھر سے ہم درجنوں کیمروں کا مرکز ہوں۔ سینکڑوں آنکھوں میں بہار تو نہیں خزاں بن کے اتریں ۔ کچھ تالیاں بجیں خلق خدا ہم سے جڑ جڑ کر سیلفیاں اتارے اور یاد رہے خلق خدا میں موٹے مرد ہرگز شامل ...

6 September Defense Day Pakistan

(courtesy reviewit.pk ) “There is no power on Earth that can undo Pakistan” this statement from our Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah contains a deep meaning. It is not a simple statement but a message for all those who want to cast evil eyes on our beloved country. For sure this country came into existence after immense sacrifice and Quaid-e-Azam had a strong believe that this country will remain on the map till Day of Resurrection. Pondering over 68 years of Independence Pakistan had mostly remained in a state of war; still today our armed forces are giving sacrifice to eliminate terrorism from the country setting a beacon of light for new generations. The war of 6th September 1965 against India marks among the most prominent event in the archives of Pakistan History. It was the day when our armed forces heroically hindered India’s attempt to enter into Pakistan. During the 17 days of the war, the whole nation and politicians were stood with armed forces as one unit leaving all ...

Defense day Pakistan (The heroic defense of Pakistan’s armed forces is commemorated as the Defense Day.)

6th September Pakistan Defense Day history Defense day Pakistan it's all about War of Pakistan & India. When India attack in Pakistan mid-night in 6th September 1965.   The heroic defense of Pakistan’s armed forces is commemorated as the Defense Day. 6th September is a public holiday, which is celebrated as the national day as Pakistan’s armed forces bid to defense after India attacked worked and on this day ceasefire between both the countries was marked. Army officers like Captain Sarwar, Major Tufail, Major Raja Aziz Bhatti, Major Shabbir Sharif, Major Muhammad Akram, Muhammad Hussain Janjua, Lance Naik Muhammad Mehfooz, and Havaldar Lalak Jan sacrificed their lives for Pakistan and were awarded with "Nishan-e-Haider" for their acts of exceptional bravery. Nishan-e-Haider is the highest military award given to soldiers of the army of Pakistan for their exceptional and remarkable bravery and sacrifice for their nation and country. This conflict ...