یہ مارتھا کی کہانی ہے جو میں نے کسی انسپریشنل کتاب میں پڑھی تھی۔ مارتھا لکھتی ہے کہ وہ ایک پرائیویٹ دفتر میں ملازمت کرتی تھی۔ دفتر کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں جا رہے تھے۔ کئی سالوں سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔ سال میں ملنے والے دو بونس بھی مالی خسارے کی وجہ سے بند ہو چکے تھے۔ ان حالات میں کام کرنے والے کمپنی کے ملازم ہر وقت کڑھتے رہتے اور جونہی لنچ بریک میں کیفے ٹیریا آباد ہوتا بس یہی باتیں شروع ہو جاتیں۔ ہر کوئی اپنے مالی مسائل اور کمپنی کی بے حسی کا رونا روتا۔ ہر کوئی ناخوش دکھائی دیتا۔ مارتھا کہتی ہیں کہ ہم چھ لوگوں کا ایک گروپ مل کر لنچ کرنے کا عادی تھا اور ہم چھ لوگ بھی باقی ملازمین کی طرح ہر وقت جملے کڑھے رہتے مسائل کا رونا روتے رہتے۔ شکوے شکایت تنخواہوں کی کمی سے ہوتے ہوئے گھریلو حالات کی طرف مڑ جاتے تو وہاں بھی ہر کوئی شکایتوں کے انبار لگا دیتا۔ کہیں شریک حیات کی بے اعتنائی کا شکوہ ہوتا تو کوئی دوستوں‘ رشتہ داروں کی بے وفائی کے تذکرے کرتا۔ غرض لنچ ٹائم کا آدھا پونا گھنٹہ اسی قسم کی باتیں ہوتی رہتیں۔ اور یوں جب تک ہم واپس اپنے کام کے لیے ڈیسک پر بیٹھتے یہ م...